Posts

Showing posts from April, 2026

عکسی جھلکیاں مزار حضرت بہزاد لکھنوی قادری چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ

Image
                     

بہزاد لکھنویؒ کی مشہور نعتیں

Image
ﷺﷺﷺ۔ ﷺﷺﷺ۔ ﷺﷺﷺ ﷺﷺﷺ۔ ﷺﷺﷺ۔   حضرت بہزاد لکھنوی(1974-1895) کی غزلیں اور نعتیں انہیں اُردو ادب میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہیں۔ان کی شاعری میں جذبات و احساسات بھرپور پائے جاتے ہیں۔ آپ کو اُردو دنیا میں عاشق رسول ؐ سے یاد کیا جاتا ہے۔ بہزاد لکھنویؒ کی مشہور نعتیں مدینے کو جائیں، یہ جی چاہتا ہے مقدّر بنائیں، یہ جی چاہتا ہے مدینے کے آقا ؐ، دوعالم کے مولاؐ تیرے پاس آئیں، یہ جی چاہتا ہے جہاں دونوں عالم ہیں محوِ تمنّا وہاں سَر جُھکائیں، یہ جی چاہتا ہے محمدؐ کی باتیں، محمدؐ کی سیرت سُنیں اور سُنائیں، یہ جی چاہتا ہے دِلوں سے جو نکلیں دیارِ نبیؐ میں سُنیں وہ صدائیں، یہ جی چاہتا ہے پہنچ جائیں بہزاد ؔجب ہم مدینے خود کو نہ پائیں، یہ جی چاہتا ہے ٭٭٭٭٭ ﷺﷺﷺ۔ ﷺﷺﷺ۔ ﷺﷺﷺ ﷺﷺﷺ۔ ﷺﷺﷺ۔   ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے قلبِ حیراں کی تسکیں وہیں رہ گئی دل وہیں رہ گیا، جاں وہیں رہ گئی خم اُسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی اللہ اللہ وہاں کا درود و سلام اللہ اللہ وہاں کا سجود و قیام اللہ اللہ وہاں کا وہ کیفِ دوام وہ صلوٰۃِ سکوں آفریں رہ گئی جس جگہ سجدہ ریزی کی لذّت ملی جس جگہ ...

Hazrat Behzad Lakhnavi Qadri Chishti Nizami (رحمتہ اللہ علیہ): From Poetry to Spiritual Illumination

Image
  حضرت بہزاد لکھنوی قادری چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ  شاعری سے روحانیت تک کا سفر (خواجہ طہ عامر نظامی - نائبِ امین الاولیاء) برصغیر کی سرزمین ہمیشہ ایسے اہلِ دل اور صاحبِ حال بزرگوں سے مالا مال رہی ہے جنہوں نے اپنے علم، فن اور روحانیت کے ذریعے انسان کو اس کے باطن سے روشناس کرایا۔ حضرت بہزاد لکھنوی قادری چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور تصوف—تینوں میدانوں میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔ حضرت بہزاد لکھنوی یکم جنوری 1900 کو لکھنؤ کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام سردار احمد خاں تھا، جبکہ “بہزاد” آپ کا شعری تخلص تھا۔ آپ کے والد بھی ایک قادرالکلام شاعر تھے، جس کے باعث گھر کا ماحول علم و ادب کی خوشبو سے معطر تھا۔ یہی فضا آپ کی ابتدائی تربیت کا سبب بنی اور آپ نے کم عمری ہی میں شعر کہنا شروع کر دیا۔ لکھنؤ، جو اپنی تہذیب، شائستگی اور روحانی روایت کے لیے معروف ہے، نے آپ کی شخصیت کو گہرائی عطا کی۔ ابتدا میں آپ کی شاعری میں حسن و عشق کے روایتی مضامین ملتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے کلا...

کلاسیکی روایت اور جدید نغمہ نگاری کا درخشاں نام

Image
  بہزاد لکھنوی: کلاسیکی روایت اور جدید نغمہ نگاری کا درخشاں نام اردو ادب کی تاریخ میں ایسے شعرا کی ایک روشن کہکشاں موجود ہے جنہوں نے نہ صرف اپنے عہد کو متاثر کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فکری اور فنی رہنمائی فراہم کی۔ انہی درخشاں ناموں میں ایک اہم نام بہزاد لکھنوی کا ہے، جو اپنے منفرد اسلوب، سادہ مگر پُراثر زبان اور دلنشیں نغمہ نگاری کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ بہزاد لکھنوی یکم جنوری 1900 کو لکھنؤ کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سردار احمد خاں تھا، تاہم انہوں نے “بہزاد” کو بطور تخلص اختیار کیا اور اسی نام سے شہرت پائی۔ لکھنؤ، جو اپنی تہذیبی نزاکت اور ادبی روایت کے حوالے سے مشہور رہا ہے، بہزاد کی شخصیت اور شاعری کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے والد بھی اپنے زمانے کے مقبول شاعر تھے، جس کے باعث گھر کا ماحول شعری ذوق اور ادبی لطافت سے بھرپور تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بہزاد نے کم عمری ہی میں شعر کہنے کا آغاز کر دیا اور جلد ہی اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے لگے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں بہزاد لکھنوی نے ایک طویل عرصہ محکمۂ ریلوے میں خدمات انجام دیں...

حرف سے نور تک کا سفر

Image
بہزاد لکھنوی: حرف سے نور تک کا سفر اردو شاعری کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو محض شاعر نہیں رہتے بلکہ ایک کیفیت، ایک جذبہ اور ایک باطنی سفر کی علامت بن جاتے ہیں۔ بہزاد لکھنوی بھی انہی شخصیات میں سے ایک ہیں جن کی شاعری میں صرف لفظوں کی ترتیب نہیں بلکہ روح کی صدا سنائی دیتی ہے۔ یکم جنوری 1900 کو لکھنؤ کی اس سرزمین پر آنکھ کھولنے والے سردار احمد خاں نے جب “بہزاد” کا تخلص اختیار کیا تو گویا ایک ظاہری نام سے باطنی پہچان کی طرف قدم بڑھایا۔ لکھنؤ کا علمی و ادبی ماحول اور گھر کی شعری فضا ان کے لیے کسی روحانی مکتب سے کم نہ تھی۔ ان کے والد خود ایک صاحبِ ذوق شاعر تھے، یوں بہزاد کے لیے شاعری محض ہنر نہیں بلکہ وراثت میں ملی ہوئی ایک امانت تھی۔ کم عمری ہی میں جب انہوں نے شعر کہنا شروع کیا تو یہ محض الفاظ کا کھیل نہ تھا بلکہ دل کی وارداتوں کا اظہار تھا۔ ان کے اشعار میں ایک ایسی سادگی نظر آتی ہے جو تصنع سے پاک اور دل کے نہاں خانوں سے پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ گویا وہ لفظوں میں نہیں، کیفیتوں میں بات کرتے تھے۔ زندگی کے عملی مرحلوں میں انہوں نے محکمۂ ریلوے سے وابستگی اختیار کی، مگر ان کا باطن ہم...

حضرت بہزاد لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ: عشقِ رسولؐ میں ڈوبا ہوا ایک صوفی شاعر

Image
  حضرت بہزاد لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ -عشقِ رسولﷺ میں ڈوبا ہوا ایک صوفی شاعر (تحریر: خواجہ طہ عامر نٖظامی ۔ نائب امین الاولیاء) تعارف اردو نعتیہ ادب میں حضرت بہزاد لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کا نام ایک روشن چراغ کی مانند ہے، جن کی شاعری عشقِ رسول ﷺ کی سچی ترجمان ہے۔ آپ محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک صاحبِ حال صوفی تھے، جن کے اشعار میں عقیدت، محبت اور روحانیت کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ آپ کا ہر لفظ گویا بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں پیش کیا گیا نذرانۂ محبت ہے۔ پیدائش اور ابتدائی زندگی حضرت بہزاد لکھنوی 1904ء میں لکھنؤ کے ایک علمی و ادبی ماحول میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام سردار حسین خاں تھا اور آپ کا تعلق آفریدی خاندان سے تھا۔ بچپن ہی سے آپ کے اندر ایک لطیف احساس اور شعری ذوق موجود تھا، جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک روحانی کیفیت میں ڈھلتا گیا۔ تعلیم اور عملی زندگی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے ایسٹ انڈیا ریلوے میں ملازمت اختیار کی، مگر بیماری کے باعث یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا۔ بعد ازاں 1932ء میں آپ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوئے، جہاں آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا ملی۔ 1942ء میں آپ نے یہ ملازمت بھی چھوڑ دی ...

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

Image
اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے اے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے ہاں یاد مجھے تم کر لینا آواز مجھے تم دے لینا اس راہ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشم کرم ہونے دے ستم بالائے ستم میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم مشکل پس مشکل آ جائے اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوں اس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تجھ پہ مرا دل آ جائے اے برق تجلی کوندھ ذرا کیا مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے میں طور نہیں جو جل جاؤں جو چاہے مقابل آ جائے کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے