حضرت بہزاد لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ: عشقِ رسولؐ میں ڈوبا ہوا ایک صوفی شاعر
حضرت بہزاد لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ-عشقِ رسولﷺ میں ڈوبا ہوا ایک صوفی شاعر
(تحریر: خواجہ طہ عامر نٖظامی ۔ نائب امین الاولیاء)
تعارف
اردو نعتیہ ادب میں حضرت بہزاد لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کا نام ایک روشن چراغ کی مانند ہے، جن کی شاعری عشقِ رسول ﷺ کی سچی ترجمان ہے۔ آپ محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک صاحبِ حال صوفی تھے، جن کے اشعار میں عقیدت، محبت اور روحانیت کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ آپ کا ہر لفظ گویا بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں پیش کیا گیا نذرانۂ محبت ہے۔
پیدائش اور ابتدائی زندگی
حضرت بہزاد لکھنوی 1904ء میں لکھنؤ کے ایک علمی و ادبی ماحول میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام سردار حسین خاں تھا اور آپ کا تعلق آفریدی خاندان سے تھا۔ بچپن ہی سے آپ کے اندر ایک لطیف احساس اور شعری ذوق موجود تھا، جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک روحانی کیفیت میں ڈھلتا گیا۔
تعلیم اور عملی زندگی
تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے ایسٹ انڈیا ریلوے میں ملازمت اختیار کی، مگر بیماری کے باعث یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا۔ بعد ازاں 1932ء میں آپ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوئے، جہاں آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا ملی۔ 1942ء میں آپ نے یہ ملازمت بھی چھوڑ دی اور کچھ عرصہ فلمی دنیا، خصوصاً پنچولی آرٹ پکچرز لاہور سے وابستہ رہے۔ لیکن یہ سب دنیاوی مراحل آپ کے باطنی سفر کے مقابلے میں عارضی ثابت ہوئے۔
روحانی وابستگی
حضرت بہزاد لکھنوی کا روحانی تعلق خانقاہِ نیازیہ بریلی سے تھا۔ آپ کے مرشد حضرت شاہ محمد تقی المعروف حضرت عزیز میاں رحمۃ اللہ علیہ کی نگاہِ کرم نے آپ کے دل کو عشقِ رسول ﷺ سے اس طرح بھر دیا کہ آپ کی پوری زندگی اسی محبت میں ڈوب گئی۔ آپ کی شاعری دراصل اسی روحانی فیضان کا عکس ہے۔
نعت گوئی کا سفر
اگرچہ آپ نے زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کیا، مگر آپ کی اصل پہچان نعت گو شاعر کی حیثیت سے ہوئی۔ عشقِ رسول ﷺ آپ کی سرشت میں اس طرح رچ بس گیا تھا کہ آپ آخرکار مکمل طور پر نعت گوئی کے لیے وقف ہو گئے۔ آپ کی نعتیں سادگی، سوز اور اخلاص کا حسین امتزاج ہیں، جو سننے والے کے دل کو نرم اور آنکھوں کو نم کر دیتی ہیں۔
ریڈیو پاکستان اور نعت خوانی
قیامِ پاکستان کے بعد آپ کراچی منتقل ہو گئے اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں آپ روزانہ ترنم کے ساتھ ایک تازہ نعت پیش کیا کرتے تھے۔ آپ کی آواز میں درد، انداز میں ادب اور الفاظ میں ایسی تاثیر تھی کہ سامعین خود کو مدینہ کی روحانی فضا میں محسوس کرتے تھے۔
تصانیف و مجموعہ ہائے کلام
حضرت بہزاد لکھنوی کے متعدد شعری اور نعتیہ مجموعے شائع ہوئے، جن میں شامل ہیں:
کیف و سرور
چراغِ طور
کفر و ایمان
ثنائے حبیب
ذکرِ حضور
نغمۂ روح
درمانِ غم
موجِ طور
نقشِ بہزاد
مصحفِ بہزاد
کرم بالائے کرم
خصوصی طور پر کرم بالائے کرم آپ کا آخری نعتیہ مجموعہ ہے، جس میں 142 نعتیں شامل ہیں۔ اس مجموعے میں عشقِ مدینہ، یادِ رسول ﷺ اور کیفیتِ وجد کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔
شاعری کا صوفیانہ رنگ
آپ کی شاعری میں تصوف کی گہرائی نمایاں ہے۔ آپ کے ہاں عشق محض جذبہ نہیں بلکہ ایک روحانی راستہ ہے۔ سادہ الفاظ میں گہری بات کہنا آپ کا خاص وصف تھا۔ آپ کے اشعار دل میں اتر کر روح کو منور کرتے ہیں اور قاری کو ایک باطنی سفر پر لے جاتے ہیں۔
وصال
حضرت بہزاد لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 10 اکتوبر 1974ء بمطابق 23 رمضان المبارک کو کراچی میں ہوا۔ یہ ایک عاشق کا اپنے محبوب ﷺ سے جا ملنے کا لمحہ تھا، جو ظاہری جدائی کے باوجود ایک ابدی وصال کی علامت ہے۔
ادبی و روحانی ورثہ
آپ کا کلام آج بھی محافلِ نعت میں بڑے شوق سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ آپ نے نعت گوئی کو محض فن نہیں بلکہ عبادت کا درجہ دیا۔ آپ کی شاعری آج بھی دلوں کو مدینہ کی یاد سے مہکا دیتی ہے اور عشقِ رسول ﷺ کی شمع کو روشن رکھتی ہے۔
اختتامیہ
حضرت بہزاد لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی شہرت میں نہیں بلکہ عشقِ رسول ﷺ میں ہے۔ ان کا کلام ایک ایسا روحانی خزانہ ہے جو رہتی دنیا تک اہلِ دل کو فیض دیتا رہے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور سچی محبتِ رسول ﷺ نصیب فرمائے۔ آمین۔


Comments
Post a Comment