بہزاد لکھنویؒ کی مشہور نعتیں
ﷺﷺﷺ۔ ﷺﷺﷺ۔ ﷺﷺﷺ ﷺﷺﷺ۔ ﷺﷺﷺ۔
بہزاد لکھنویؒ کی مشہور نعتیں
مدینے کو جائیں، یہ جی چاہتا ہے
مقدّر بنائیں، یہ جی چاہتا ہے
مدینے کے آقا ؐ، دوعالم کے مولاؐ
تیرے پاس آئیں، یہ جی چاہتا ہے
جہاں دونوں عالم ہیں محوِ تمنّا
وہاں سَر جُھکائیں، یہ جی چاہتا ہے
محمدؐ کی باتیں، محمدؐ کی سیرت
سُنیں اور سُنائیں، یہ جی چاہتا ہے
دِلوں سے جو نکلیں دیارِ نبیؐ میں
سُنیں وہ صدائیں، یہ جی چاہتا ہے
پہنچ جائیں بہزاد ؔجب ہم مدینے
خود کو نہ پائیں، یہ جی چاہتا ہے
٭٭٭٭٭
ﷺﷺﷺ۔ ﷺﷺﷺ۔ ﷺﷺﷺ ﷺﷺﷺ۔ ﷺﷺﷺ۔
ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
قلبِ حیراں کی تسکیں وہیں رہ گئی
دل وہیں رہ گیا، جاں وہیں رہ گئی
خم اُسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی
اللہ اللہ وہاں کا درود و سلام
اللہ اللہ وہاں کا سجود و قیام
اللہ اللہ وہاں کا وہ کیفِ دوام
وہ صلوٰۃِ سکوں آفریں رہ گئی
جس جگہ سجدہ ریزی کی لذّت ملی
جس جگہ ہر قدم اُن کی رحمت ملی
جس جگہ نور رہتا ہے شام و سحر
وہ فلک رہ گیا، وہ زمیں رہ گئی
پڑھ کے نصر من اللہ فتح قریب
جب ہوئے ہم رواں سُوئے کُوئے حبیبؐ
برکتیں رحمتیں ساتھ چلنے لگیں
بے بسی زندگی کی یہیں رہ گئی
یاد آتے ہیں ہم کو وہ شام و سحر
وہ سکونِ دِل و جاں ،وہ رُوح و نظر
یہ اُنہی کا کرم ہے ،اُنہی کی عطا
ایک کیفیتِ دل نشیں رہ گئی
زندگانی وہیں کاش ہوتی بسر
کاش بہزادؔ آتے نہ ہم لوٹ کر
اور پوری ہوئی ہر تمنّا مگر
یہ تمنائے قلبِ حزیں رہ گئی
*******************

Comments
Post a Comment