حرف سے نور تک کا سفر



بہزاد لکھنوی: حرف سے نور تک کا سفر

اردو شاعری کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو محض شاعر نہیں رہتے بلکہ ایک کیفیت، ایک جذبہ اور ایک باطنی سفر کی علامت بن جاتے ہیں۔ بہزاد لکھنوی بھی انہی شخصیات میں سے ایک ہیں جن کی شاعری میں صرف لفظوں کی ترتیب نہیں بلکہ روح کی صدا سنائی دیتی ہے۔

یکم جنوری 1900 کو لکھنؤ کی اس سرزمین پر آنکھ کھولنے والے سردار احمد خاں نے جب “بہزاد” کا تخلص اختیار کیا تو گویا ایک ظاہری نام سے باطنی پہچان کی طرف قدم بڑھایا۔ لکھنؤ کا علمی و ادبی ماحول اور گھر کی شعری فضا ان کے لیے کسی روحانی مکتب سے کم نہ تھی۔ ان کے والد خود ایک صاحبِ ذوق شاعر تھے، یوں بہزاد کے لیے شاعری محض ہنر نہیں بلکہ وراثت میں ملی ہوئی ایک امانت تھی۔

کم عمری ہی میں جب انہوں نے شعر کہنا شروع کیا تو یہ محض الفاظ کا کھیل نہ تھا بلکہ دل کی وارداتوں کا اظہار تھا۔ ان کے اشعار میں ایک ایسی سادگی نظر آتی ہے جو تصنع سے پاک اور دل کے نہاں خانوں سے پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ گویا وہ لفظوں میں نہیں، کیفیتوں میں بات کرتے تھے۔

زندگی کے عملی مرحلوں میں انہوں نے محکمۂ ریلوے سے وابستگی اختیار کی، مگر ان کا باطن ہمیشہ کسی اور ہی سفر میں محو رہا۔ بعد ازاں آل انڈیا ریڈیو سے وابستگی نے ان کے فن کو نئی وسعت عطا کی۔ انہوں نے فلمی دنیا کے لیے بھی نغمے تحریر کیے، مگر ان کے نغموں میں بھی ایک روحانی لطافت اور جذبے کی پاکیزگی جھلکتی ہے، جیسے ہر لفظ کسی اندرونی سچائی سے جڑا ہو۔

تقسیم کے بعد جب وہ پاکستان آئے اور ریڈیو پاکستان کراچی سے وابستہ ہوئے تو ان کا تخلیقی سفر ایک نئے رنگ میں ڈھل گیا۔ یہ دور گویا ان کے باطن کے مزید انکشاف کا زمانہ تھا، جہاں ان کے کلام میں دنیاوی تجربات کے ساتھ ساتھ ایک روحانی گہرائی بھی نمایاں ہونے لگی۔

بہزاد لکھنوی کے شعری مجموعے—نغمۂ نور، کیف و سرور، موجِ طہور، چراغِ طور اور وجد و حال—اپنے ناموں ہی کی طرح ایک صوفیانہ کیفیت کے آئینہ دار ہیں۔ ان میں “نور” کی جستجو ہے، “سرور” کی لذت ہے، “طہور” کی پاکیزگی ہے، “طور” کی تجلی ہے اور “وجد” کی بےخودی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی شاعری ایک مسلسل روحانی سفر ہے جو قاری کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔

ان کے کلام میں محبت محض انسانی جذبہ نہیں بلکہ ایک وسیلہ ہے—خالق تک پہنچنے کا، خود کو پہچاننے کا۔ وہ پیچیدہ فلسفے بیان نہیں کرتے بلکہ سادہ لفظوں میں ایسی بات کہہ جاتے ہیں جو دل میں اتر کر روح کو چھو جائے۔ یہی سادگی دراصل ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

10 اکتوبر 1974 کو کراچی میں ان کا وصال ہوا، مگر اہلِ دل کے نزدیک ایسے لوگ کبھی رخصت نہیں ہوتے۔ وہ اپنے لفظوں میں، اپنی کیفیتوں میں اور اپنے نغموں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

بہزاد لکھنوی کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے شاعری کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک باطنی سلوک بنا دیا۔ ان کے ہاں لفظ چراغ ہیں، معنی نور ہیں اور شاعری ایک ایسا راستہ ہے جو دل سے شروع ہو کر حقیقت تک جا پہنچتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

بہزاد لکھنویؒ کی مشہور نعتیں

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

حضرت بہزاد لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ: عشقِ رسولؐ میں ڈوبا ہوا ایک صوفی شاعر